آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا وہ شخص ایک شام میں ، کتنا بدل گیا  کُچھ دن تو میرا عکس رھا آئینے پہ نقش پھر یوں ھُوا ، کہ خُود میرا چہرا بدل گیا  جب اپنے اپنے حال پہ ، ھم تم نہ رہ سکے تو کیا ھُوا ، جو ھم سے زمانہ بدل گیا ؟؟  قدموں تلے جو ریت ، بچھی تھی وہ چل پڑی اُس نے چھڑایا ھاتھ ، تو صحرا بدل گیا  کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رھی جاتے ھی ایک شخص کے ، کیا کیا بدل گیا.  اِک سر خوشی کی موج نے ، کیسا کیا کمال وہ بے نیاز ، سارے کا سارا بدل گیا  اٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیاں پردہ اُٹھا تو